WhatsApp Image 2024-04-15 at 3.45.27 PM

جمہوریت کی بنیادوں پر استوار قومیں اپنے مضبوط جمہوری روایت کے ذریعے امن، خوشحالی، اور عدل کی بہترین مثال بنتی ہیں۔ ووٹ کا حق اس جمہوریت کا جوہر ہے، جو عوام کی آواز کو اقتدار تک پہنچاتا ہے اور ایک زندہ جمہوریت کی پہچان ہوتا ہے۔ پاکستان میں انتخابی نظام مہنگا، غیر موثر، اور پرانی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو ووٹ کی رازداری اور شفافیت کو برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بلاکچین ٹیکنالوجی پر مبنی ووٹنگ سسٹم شفافیت، تحفظ، اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ بلاکچین کی مضبوطی ڈیٹا میں تبدیلی یا مداخلت سے تحفظ فراہم کرتی ہے، جو اسے ووٹنگ کے لیے ایک مثالی ٹیکنالوجی بناتی ہے۔ اس سسٹم کی تعمیر اور دیکھ بھال آسان ہونے کے ساتھ، عوام کا اس نظام پر اعتماد بھی بڑھے گا، جس سے پاکستان دنیا کے بہترین انتخابی نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان کے سامنے بلاکچین ٹیکنالوجی کے ذریعے ووٹنگ کے عمل کو زیادہ سہولت بخش بنانے کا بے نظیر موقع ہے۔ تصور کریں کہ آپ اپنے موبائل فون سے ہی آرام سے ووٹ دے سکیں، بغیر کسی پیچیدگی کے، بغیر لمبی قطاروں میں انتظار کیے۔ اس سہولت کی بدولت، ووٹنگ کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر شہری بغیر کسی جسمانی یا وقتی رکاوٹ کے، اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکے گا۔ مزید برآں، بلاکچین کی ٹیکنالوجی کی بدولت ووٹنگ کے فوری نتائج دیکھنا ممکن ہو جائے گا، جو نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ شفافیت اور جمہوریت کے تعیئن سے عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس طرح، بلاکچین پر مبنی ووٹنگ سسٹم نہ صرف ووٹنگ کے عمل کو آسان بنا دے گا بلکہ یہ ایک جدید، محفوظ، اور شفاف جمہوریت کی طرف ایک قدم ہوگا جہاں ہر شہری کا ووٹ اہمیت رکھتا ہے اور فوری طور پر اس کی گنتی ہوتی ہے-

بلاکچین پر مبنی ووٹنگ نظام ووٹروں کی  شرح میں اضافے کا باعث بنے گی، جس سے جمہوریت کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ نہ صرف انتخابی فراڈ اور ووٹ کی چوری کو ختم کر دے گا بلکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کرے گا ۔ نوجوان نسل، جو  ٹیکنالوجی اور جدت کو سراہتی ہے، اس نظام کو اپنانے میں پیش پیش ہو سکتی ہے، جو پاکستان کو ایک جمہوری، خوشحال، اور ترقی یافتہ ملک بنانے کی راہ میں ان کی اہم بھومکا کو ظاہر کرتی ہے۔بلاکچین ٹیکنالوجی کی بدولت، پاکستان کی نئی نسل کے پاس اپنے ملک کے جمہوری عمل کو نئی جہتوں تک پہنچانے کا ایک منفرد موقع ہے۔ اس سے انتخابی عمل میں نہ صرف زیادہ شفافیت آئے گی بلکہ یہ عوام کو بھی زیادہ موثر طور پر اپنے حقوق استعمال کرنے کی طرف مائل کرے گا۔

خواتین کی ووٹنگ میں شرکت ایک اہم پہلو ہے، جو اکثر سماجی، ثقافتی، اور عملی رکاوٹوں کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ فزیکل ووٹنگ کے لیے موجودہ نظام میں خواتین کو کئی دکتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے کہ سماجی دباؤ، نقل و حرکت میں مشکلات، اور ووٹنگ سینٹرز تک رسائی میں دشواری۔ بلاکچین ٹیکنالوجی پر مبنی ووٹنگ سسٹم اس مسئلے کا حل پیش کرتا ہے، کیونکہ خواتین اپنے موبائل فون کے ذریعے آسانی سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا ووٹ دے سکیں گی۔ اس سے نہ صرف خواتین کی ووٹنگ میں شمولیت کا اضافہ ہوگا بلکہ یہ جمہوری عمل میں ان کی برابری اور  بھرپور حصہ داری کو بھی فروغ دے گا۔ بلاکچین کے استعمال سے، ہم ایک ایسے معاشرے کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں جہاں ہر فرد، بغیر کسی جنسی، ثقافتی یا عملی رکاوٹ کے، اپنے جمہوری حقوق کا مکمل استعمال کر سکے۔

موبائل کنیکٹوٹی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں اسکی شرح کم ہے، لیکن حقیقت میں ملک میں 190 ملین سے زیادہ موبائل کنیکشنز ہیں، جن میں سے 60% سمارٹ فونز ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 120 ملین سمارٹ فون ایپ یوزرز ہیں، جو کہ مجموعی ووٹر الیکٹوریٹ کے تقریباً 120 ملین افراد کے برابر ہے۔ ان افراد کے لیے جن کے پاس سمارٹ فونز نہیں ہیں بلکہ انالوگ فونز  ہیں، ہم  متنی یا صوتی اختیارات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بہت دور دراز علاقوں کے لیے، جہاں موبائل کی رسائی یا موجودگی نہیں ہے، وہاں فزیکل پولنگ سٹیشنز کو بھی متوازی طور پر چلایا جا سکتا ہے، جن کے ووٹوں کو آنے کے ساتھ ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح، ہم ایک جامع اور موثر انتخابی نظام کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں جو تمام پاکستانیوں کو ان کے جمہوری حقوق کے استعمال میں سہولت فراہم کرتا ہے، بغیر کسی جغرافیائی یا ٹیکنالوجیکل رکاوٹ کے۔

انتخابی عمل پر آنے والی لاگت ایک اہم تشویش کا موضوع ہے۔ آخری انتخابات کی مجموعی لاگت تقریباً 50 ارب روپے تھی، جو کہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ اس کے مقابلے میں، ایک بلاکچین بیسڈ ووٹنگ سسٹم کو محض 500 ملین روپے سے بھی کم  میں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف محفوظ اور اعلیٰ معیار کا ہوگا بلکہ اس کے چلانے کی لاگت بھی نہایت ارزاں ہوگی، جو کہ ملک کے لیے بڑی بچت کا باعث بنے گی۔ اس سے نہ صرف انتخابی عمل کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے بلکہ یہ پاکستان کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی طرف بھی ایک قدم ہوگا۔ اس طرح، بلاکچین ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف جمہوری عمل کو مزید شفاف اور سہولت بخش بنا سکتا ہے بلکہ یہ ایک معاشی اور موثر حل بھی پیش کرتا ہے، جو کہ ملک کی مالی صحت کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔

 انتخابی عمل کی جدت کے ذریعہ، ہم ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں پاکستان ایک جمہوری قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آسکتا ہے،  جس کی بنیاد مضبوط اور شفاف جمہوری اصولوں پر مشتمل ہو۔بلاکچین ٹیکنالوجی کے استعمال سے جمہوریت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواب نہ صرف عوام کے دلوں میں جاگزیں ہوتا ہے بلکہ یہ پاکستان کے روشن مستقبل کیلۓ ایک اہم قدم ہوگا۔.  چنانچه  بلاکچین کا استعمال پاکستان کو جمہوریت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ذریعے ایک مثالی قوم بننے کی راہ ہموار کرےگا  جہاں ہر شہری کی راۓ اور اس کے ووٹ کی اہمیت یکساں ہوگی۔

Dr Usman W. Chohan is Advisor (Economic Affairs and National Development) at the Centre for Aerospace & Security Studies, Islamabad, Pakistan. He can be reached at [email protected] . 


Share this article

Facebook
Twitter
LinkedIn

Recent Publications

Browse through the list of recent publications.

The Cover-up: IAF Narrative of the May 2025 Air Battle

Even after one year since the India-Pakistan May war of 2025, the Indian discourse regarding Operation Sindoor remains uncertain under its pretence of restraint. The Pahalgam attack on 22 April, which killed 26 people, triggered an escalatory spiral. New Delhi quickly accused Pakistan-linked elements, while Islamabad refuted the allegation and demanded an independent investigation. On 7 May, India launched attacks deep inside Pakistan under what it later termed as Operation Sindoor. The political motive was intended to turn the crisis into coercive signalling by shifting the blame onto the enemy and projecting a sense of military superiority.
This episode, however, began to fray immediately as war seldom follows the intended script. Within minutes PAF shot down 7 IAF aircraft including 4 Rafales. On 8 May, Reuters reported that at least two Indian aircraft were shot down by a Pakistani J-10C, while the local government sources reported other aircraft crashes in Indian-occupied Jammu and Kashmir

Read More »

Why the IAF’s Post-Sindoor Spending Surge is a Sign of Panic

After Operation Sindoor, India is spending billions of dollars on new weapons. This is being taken by many people as an indication of military prowess. It is not. This rush to procure weapons is in fact an acknowledgement that the Air Force in India had failed to do what it was meant to do. The costly jets and missiles that India had purchased over the years failed to yield the promised results.

Sindoor was soon followed by India in sealing the gaps which the operation had exposed. It was reported that Indian Air Force (IAF) is looking to speed up its purchases of more than 7 billion USD. This will involve other Rafale fighter jets with India already ordering 26 more Rafales to the Navy in 2024 at an estimated cost of about 3.9 billion USD. India is also seeking long-range standoff missiles, Israeli loitering munitions and increased drone capabilities. Special financial powers of the Indian military were activated to issue emergency procurement orders. The magnitude and rate of these purchases speak volumes.

Indian media and defence analysts have over the years considered the Rafale as a game changer. When India purchased 36 Rafales aircrafts at an approximate cost of 8.7 billion USD, analysts vowed that the aircraft would provide India with air superiority over Pakistan. Operation Sindoor disproved all those allegations. Indian aircraft did not even fly in Pakistani airspace when the fighting started. India solely depended on standoff weapons that were launched at a safe distance. The air defence system of Pakistan, comprising of the HQ-9 surface-to-air missile system and its own fighters, stood its ground.

Read More »

May 2025: Mosaic Warfare and the Myth of Centralised Air Power

Visualise a modern-day Air Force commander sitting in the operations room, miles away from the combat zone, overseeing every friendly and enemy aircraft and all assets involved in the campaign. In a split second, he can task a fighter, reposition a drone, and authorise a strike. In today’s promising technological era, he does not even need an operations room; a laptop on his desktop will suffice. The situation looks promising as it offers efficiency, precision, and control. The term used for such operational control is ‘centralisation’, which has been made possible with advanced networking, integrating space, cyber, surveillance, artificial intelligence, and seamless communication, enabling a single commander to manage an entire campaign from a single node. Centralised command and control, championed by the Western air forces and then adopted by many others, has thus been seen as a pinnacle of modern military power.
The concept of centralisation, enabled by state-of-the-art networking, may seem promising, but it is nothing more than a myth.

Read More »