پاکستان کی کورونا وائرس کے خلاف کامیابی کی اہم وجوہات

Author Name: Dr. Usman W Chohan      21 Sep 2020    

 

جب 2020 کے آغاز میں کورونا وائرس (کووِڈ- 19) کی تیزی سے دنیا بھر میں پھیلنے کی خبر پہنچی تھی تو اس وقت پاکستان ایک معاشی بحران سے گزر رہا تھا اور قومی طبی وسائل قدرے محدود تھے۔ اس کے علاوہ کووِڈ- 19 کی معلومات بھی سائنسدانوں کے پاس ناکافی تھیں۔ لِہٰذا دیگر بین الاقوامی سائنسی اداروں (مثلاً برطانیہ کا امپیرئیل کالج) نے 2020 کے ابتدائ ہی میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر مؤثر اقدامات نا کۓ گۓ تو پھر اگست 2020 تک پاکستان میں تقریباً 80،000 اموات ہو سکتی ہیں، اور ان اقدامات پہ عمل درآمد جاری نا رکھا گیا تو پھر 2021 تک ان اموات کا شمار 23 لاکھ کو چھو سکتا ہے

لیکن اگر ہم آج پاکستان میں                                                                                                                                                                                             

کووِڈ- 19 کا جائزہ لیں تو کہنا غلط نا ہوگا کہ بفضل تعاللہ ملکی حالات اس حد تک خرابی کی طرف نہیں گۓ جیسا کہ قیاس کیا جا رہا تھا۔ بلکہ اگر امریکہ، برا‌زیل اور بھارت سے موازنہ کیا جاۓ تو پاکستان کے حالات کہئ درجہ بہتر رہے۔امریکہ میں اموات کی تعداد اگست کے مہینہ تک پونے 2 لاکھ رہی، اسیِ طرح برازیل میں سوا ایک لاکھ، جبکہ بھارت میں 60،000 تک رہی ۔ اور تینوں ممالک میں گزرتے وقت کے ساتھ اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ اس کے بر عکس پاکستان میں 7،000 لوگ جاں بحق ہوۓ، جو کہ بین الاقوامی اداروں کےلگاۓ ہوۓ اندازوں کی کوئی 10٪ سے بھی کم تھے۔اسہی طرح سے کووڈ-19 کے منفی اثرات پاکستان کی اقتصادیات پر اس طرح سے نمایاں نہیں ہوۓ جس طرح سے قیاس کیا جا رہا تھا۔ان نتیجوں کا اگر باغور جائزہ لیا جاۓ تو پس منظر میں بہت سے معاون عوامل عیاں ہوتے ہیں۔ ان جزوی عوامل کو دو درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے کا تعلق پاکستانی معاشرتی ساخت سے ہے، اور دوسرے کا حکومتی اقدامات سے۔ان کو تفصیلی طور پہ ذیل میں بیان کیا جارہا ہے۔

اول تو پاکستان کی 70٪ آبادی 29 سال سے کم عمر ہے، جن پہ کووڈ-19 کے منفی اثرات اس طرح سے اثر انداز نہیں ہوتے جس طرح کہ بڑی عمر کے لوگوں پر۔ دوم پاکستان میں موٹاپے سے شکار افراد کا تناسب 8٪ ہے، جو کہ باقی کئی ممالک سے بادرجہ کم ہے، مثلاً امریکہ میں 36٪ اور برازیل میں 22٪۔ طبی ماہرین کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد کووڈ-19 سے زیادہ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ کووڈ-19 کے کم پھیلنے کی ایک اور وجہ پاکستان میں طرز رہائش ہے۔ اونچی رہائشی عمارتوں میں لوگوں کی آمد و رفت اور میل جل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جیسے کہ سیڑھیاں یا لفٹ میں، یا مرکزی داخل ہونے کا راستہ، وائرس کے منتقلی کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان میں کیونکہ اکثریت کی رہائش چھوٹے مکانوں پہ مشتمل ہے، جن میں ہوا کا گزر قدرے بہتر رہتا ہے، اور باہمی فاصلہ بھی برقرار رہتا ہے، اس کے مثبت اثرات کی امکنات بہت زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں خواتین کا غیر ضروری طور پہ باہر بھیڑ بھاڑ کی جگاہوں جیسے کہ بازار وغیرہ میں جانے کا رجحان کم ہے، جس سے آبادی کی کثیر تعداد وبا کے پھیلاؤ سے محفوظ رہتی ہے۔

اس ضمن میں بر وقت اور مثبت حکومتی اقدامات نے وبا کی روک تھام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نیشنل کواورڈنیشن کمیٹی کا قیام مرکز اور صوبوں کے درمیان باہمی روابط قائم کرنے میں معاون رہا، جس کی وجہ سے سِول اداروں اور فوجی وسائل کو بہتر طور پر بروۓ کار لایا جا سکا۔ اس کے بر عکس امریکہ، بھارت اور برازیل میں قومی سطح پہ تعاون کے لیۓ شروع میں کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ۔ مخصوص بندشوں کے نفاذ جیسا کہ لوگوں کی علاقائی طور پر آمد و رفت کی بندش کے علاوہ سکولوں، شاپنگ مالز ، بڑے بازار، اور شادی ہال، میں اجتماعات پہ پابندی شامل تھیں۔ دیہاتی اور شہری علاقوں کے درمیان بڑے پیمانے پر آبادی کے انتقال کی روک تھام وائرس سے بچاؤ کا سبب بنی۔ اگر کسی ایک وجہ کو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیا جاۓ، اور ہم بھارت اور پاکستان کا موازنہ کریں، تو یہ پہلو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل رہا۔ اس کے بر عکس ہندستان میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بغیر کسی انتباہ اور سفری انتظام کے اچانک بندشوں کا نفاذ تھا، جس کے سبب ایک کثیر آبادی شہروں سے دیہی علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئی۔

پاکستان میں وبا کے کم پھیلاؤ کیلۓ اول تو اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جاۓ وہ کم ہے، لیکن اس سے ہرگز یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والے دنوں میں وائرس کا پھیلاؤ اس سے مختلف صورت نہ اختیار کر لے۔ لِہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وائرس کی احتیاطی تدابیر پر انتہائی توجہ کے ساتھ عمل جاری رکھا جاۓ ، کیونکہ وائرس کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلہ نہیں۔ آئندہ نتائج کا انحصار حکومت کے علاوہ عوام کے ذمہ دارانہ رویہ پر ہوگا ۔

 

-Dr. Usman Chohan is Director at CASS. This article was first published in Duniya Urdu Newspaper. He can be reached at cass.thinkers@gmail.com

 

-Image source: propergaanda.com

 

Related Articles